خواتین کی صحت • آسان اردو میں
PCOS کیا ہے؟ علامات، علاج اور آسان اردو میں رہنمائی
تحریر: سکن کنسلٹ لاہور۔ معلومات کے ذرائع دیکھنے کی تاریخ: ۔
ہر مہینے انتظار۔ پھر وہی سوال: ماہواری اب تک کیوں نہیں آئی؟ چہرے پر دانے یا بال بھی بڑھ رہے ہوں تو پریشانی اور بڑھ جاتی ہے۔
آپ کو اکیلے اندازے لگانے کی ضرورت نہیں۔ ان باتوں کی ایک وجہ پی سی او ایس ہو سکتی ہے۔ مگر ہر بے قاعدہ ماہواری کا مطلب یہی بیماری نہیں۔ صحیح وجہ جاننا پہلا قدم ہے۔
آئیے آسان لفظوں میں سمجھتے ہیں کہ یہ کیا ہے اور آپ کو کب ڈاکٹر سے بات کرنی چاہیے۔
پی سی او ایس کیا ہے؟
ہمارے جسم میں ہارمون ہوتے ہیں۔ انہیں جسم کے پیغام سمجھیں۔ یہ جسم کو بتاتے ہیں کہ کون سا کام کب کرنا ہے۔ پی سی او ایس میں ان پیغامات کا توازن بدل جاتا ہے۔ اس سے ماہواری، جلد اور بالوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ (عالمی ادارۂ صحت: پی سی او ایس)
ماہواری وہ خون ہے جو عموماً ہر مہینے آتا ہے۔ پی سی او ایس میں اس کے آنے کا وقت بدل سکتا ہے۔ بعض نئی طبی ویب سائٹس پر اس بیماری کا نام PMOS بھی لکھا ہے۔ (برطانوی ادارۂ صحت: علامات اور علاج)
پی سی او ایس کی علامات کیا ہیں؟
- ماہواری دیر سے آنا، کم آنا یا کئی مہینے نہ آنا۔
- چہرے یا جسم پر پہلے سے زیادہ بال آنا۔
- چہرے پر دانے یا زیادہ چکنائی ہونا۔
- سر کے بال پتلے ہونا۔
- حمل ٹھہرنے میں مشکل ہونا۔
ہر خاتون میں سب علامات نہیں ہوتیں۔ صرف دانے یا بال دیکھ کر خود سے فیصلہ نہ کریں۔ (عالمی ادارۂ صحت: پی سی او ایس)
اگر یہ تبدیلیاں آپ کو پریشان کر رہی ہیں تو پی سی او ایس کے بارے میں طبی مشورہ لے سکتی ہیں۔ پہلے سے ٹیسٹ کرانا ضروری نہیں؛ ڈاکٹر بتا سکتی ہیں کہ کیا چاہیے۔
کیا صرف الٹراساؤنڈ سے پتہ چل جاتا ہے؟
نہیں۔ ڈاکٹر آپ کی ماہواری، علامات اور صحت کی پوری بات سنتی ہیں۔ ضرورت ہو تو خون کے ٹیسٹ یا الٹراساؤنڈ تجویز کرتی ہیں۔ الٹراساؤنڈ جسم کے اندر کی تصویر دکھانے والا ٹیسٹ ہے۔
صرف الٹراساؤنڈ کی رپورٹ سے فیصلہ نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر علامات کی دوسری وجوہات بھی دیکھتی ہیں۔ کم عمر لڑکیوں کی جانچ بڑوں سے مختلف ہو سکتی ہے۔ (امریکی قومی ادارۂ صحت: تشخیص)
ملاقات سے پہلے آخری ماہواری کی تاریخ، اپنی دواؤں کے نام اور پرانی رپورٹیں ایک جگہ رکھ لیں۔ تاریخ یاد نہ ہو تو بھی مشورہ لیا جا سکتا ہے۔
پی سی او ایس کا علاج کیسے ہوتا ہے؟
ابھی ایسا علاج نہیں جو اسے ہمیشہ کے لیے ختم کر دے۔ مگر درست دیکھ بھال سے علامات بہتر ہو سکتی ہیں۔ (عالمی ادارۂ صحت: پی سی او ایس)
علاج آپ کی ضرورت کے مطابق ہوتا ہے۔ کسی کو ماہواری کے لیے دوا چاہیے۔ کسی کو دانوں، بالوں یا وزن کے لیے مدد چاہیے۔ اگر آپ بچہ چاہتی ہیں تو اس کے لیے الگ مشورہ ہوتا ہے۔ ہر خاتون کی دوا ایک جیسی نہیں ہوتی۔ (برطانوی ادارۂ صحت: علامات اور علاج)
کسی اور کی دوا، وزن کم کرنے کا انجیکشن یا سوشل میڈیا کا نسخہ خود سے شروع نہ کریں۔ ڈاکٹر کو ضرور بتائیں کہ آپ کون سی دوا لے رہی ہیں اور کیا حمل کا ارادہ ہے۔
آج سے کون سے چھوٹے قدم لے سکتی ہیں؟
- ماہواری کی تاریخ لکھ لیا کریں۔
- متوازن کھانا کھائیں۔ دال، سبزی اور پھل بھی کھانے کا حصہ بنائیں۔
- اپنی صحت کے مطابق چلنے پھرنے کا وقت نکالیں۔
- وزن یا علامات کی وجہ سے اداسی ہو تو ڈاکٹر سے بات کریں۔
اپنے آپ کو قصوروار نہ سمجھیں۔ دیکھ بھال صرف وزن کے بارے میں نہیں ہے۔ ڈاکٹر آپ کی شوگر، بلڈ پریشر اور باقی صحت پر بھی نظر رکھ سکتی ہیں۔ (برطانوی ماہرینِ امراضِ نسواں: صحت کی دیکھ بھال)
صحت مند کھانا اور حرکت فائدہ دے سکتے ہیں، چاہے وزن کم نہ ہو۔ (عالمی ادارۂ صحت: پی سی او ایس) آپ روزمرہ کی صحت مند عادتوں کے لیے بھی مدد لے سکتی ہیں۔
پی سی او ایس کے بارے میں عام سوالات
کیا پی سی او ایس میں بچہ ہو سکتا ہے؟
جی ہاں، بہت سی خواتین کو حمل ہو جاتا ہے۔ کچھ کو طبی مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔ پی سی او ایس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کبھی ماں نہیں بن سکتیں۔ حمل کا ارادہ ہو تو ڈاکٹر سے بات کریں۔ (برطانوی ماہرینِ امراضِ نسواں: صحت کی دیکھ بھال)
کیا یہ صرف زیادہ وزن والی خواتین کو ہوتا ہے؟
نہیں۔ وزن کم یا زیادہ ہونے سے اکیلے اس بیماری کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر باقی علامات بھی دیکھتی ہیں۔ (برطانوی ماہرینِ امراضِ نسواں: صحت کی دیکھ بھال)
کیا غیر شادی شدہ لڑکی کو بھی ہو سکتا ہے؟
جی ہاں۔ علامات کم عمری میں بھی شروع ہو سکتی ہیں۔ ڈاکٹر سے بات کرنے کے لیے شادی کا انتظار ضروری نہیں۔ (برطانوی ادارۂ صحت: علامات اور علاج)
کیا آن لائن مشورہ کافی ہے؟
آن لائن ملاقات میں اپنی بات، ماہواری کی تاریخ اور رپورٹیں بتا سکتی ہیں۔ مگر کچھ صورتوں میں معائنہ یا ٹیسٹ ضروری ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر آپ کو اگلا قدم سمجھائیں گی۔
لاہور میں پی سی او ایس کے لیے مشورہ لیں
آپ کو ملاقات سے پہلے بیماری کا نام معلوم ہونا ضروری نہیں۔ بس یہ بتائیں کہ کیا بدلا ہے اور کون سی بات آپ کو پریشان کر رہی ہے۔
ڈاکٹر سکینہ رضا، MBBS جنرل ڈاکٹر ہیں۔ وہ آپ کی بات سن کر ابتدائی جانچ، روزمرہ کی عادتوں اور اگلے قدم کے بارے میں مشورہ دے سکتی ہیں۔ ضرورت ہو تو خواتین کی بیماریوں یا ہارمون کے ماہر کے پاس بھیج سکتی ہیں۔ یہ ماہرِ امراضِ نسواں کی سروس نہیں ہے۔
ڈاکٹر کا پی ایم ڈی سی نمبر: 948943-01-M۔
ملاقات کا وقت ۳۰ منٹ ہے۔ عام آن لائن مشورے کی فیس PKR 1,500 ہے۔ ٹیسٹ اور دواؤں کا خرچ اس میں شامل نہیں۔ کلینک کی فیس اور جگہ ملاقات سے پہلے تصدیق کر لیں۔
وقت لینے کا مطلب کسی خاص دوا یا نتیجے کی ضمانت نہیں۔ مقصد آپ کی بات سمجھنا اور مناسب اگلا قدم طے کرنا ہے۔
معلومات کہاں سے لی گئی ہیں؟
یہ عام معلومات ہیں، آپ کی ذاتی تشخیص یا نسخہ نہیں۔ طبی معلومات کے اصل ذرائع انگریزی میں ہیں۔